MOJ E SUKHAN

محفل ہستی میں ہم فکر سخن کرتے رہے

غزل

محفل ہستی میں ہم فکر سخن کرتے رہے
کشمکش میں بھی خیال انجمن کرتے رہے

بارہا گل چیں نے للکارا ہمارے عزم کو
بے محابا ہم مگر نظم چمن کرتے رہے

میں تو سب کے چاک دامن پر رفو کرتا رہا
اہل دنیا چاک میرا پیرہن کرتے رہے

ہم وطن سمجھا کئے ننگ وطن ہم کو مگر
سرفروشی کچھ ہمیں بہر وطن کرتے رہے

ختم کب ہوتا ہے دیکھیں امتحاں کا سلسلہ
آج تک ہم عزت دار و رسن کرتے رہے

کیا کہوں اس دور نو کے رہبروں کا ماجرا
یہ بھی وہ کرتے رہے جو راہزن کرتے رہے

فرحت قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم