MOJ E SUKHAN

مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں

مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں
اب تری یاد کے حوالے ہیں

زندگی کے حسین چہرے پر
غم نے کتنے حجاب ڈالے ہیں

کچھ غم زیست کا شکار ہوئے
کچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں

رہ گزار حیات میں ہم نے
خود نئے راستے نکالے ہیں

اے شب غم ذرا سنبھال کے رکھ
ہم تری صبح کے اجالے ہیں

ذوق خود آگہی نے اے قابلؔ
کتنے بت خانے توڑ ڈالے ہیں

قابل اجمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم