MOJ E SUKHAN

مذہبی چنگاریوں سے بستیاں جل جائیں گی

غزل

مذہبی چنگاریوں سے بستیاں جل جائیں گی
ان چراغوں سے نہ الجھو انگلیاں جل جائیں گی

آگ گلشن میں لگا دی اور سوچا بھی نہیں
ان گلوں کے ساتھ کتنی تتلیاں جل جائیں گی

نفرتوں کی آندھیاں یوں ہی اگر چلتی رہی
راکھ میں پنہاں ہیں جو چنگاریاں جل جائیں گی

آسمانوں کو جلا کر ایک دن پچھتاؤ گے
جل اٹھا ساون تو ساری بدلیاں جل جائیں گی

کوئی شور و غل نہ سناٹوں کا پھر ہوگا وجود
ساتھ ہی آواز کے خاموشیاں جل جائیں گی

یوں ہی گر تنہائیوں کے دائرے بڑھتے گئے
آدمی رہ جائے گا پرچھائیاں جل جائیں گی

پھر محبت کے الاؤں کو نفس روشن کرو
دھیمی دھیمی آنچ میں سب تلخیاں جل جائیں گی

نفس انبالوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم