MOJ E SUKHAN

مرا تو وقت گھر سے کوچ ہی کا ہے

غزل

مرا تو وقت گھر سے کوچ ہی کا ہے
سوال سارے گھر کی زندگی کا ہے

یہاں تو دوستی نبھے نہ دشمنی
زمیں ہے جس کی آسماں اسی کا ہے

ترس نہ جائے رقص و رم کو بھی کہیں
وہ دشت جس پہ سایہ آدمی کا ہے

جو دن نہ گزرے وہ بھی دن گزارنا
ہمارا کیا یہ سانحہ سبھی کا ہے

یہ امتحاں گراں ہے اور بہت گراں
مگر یہ کرب تو کبھی کبھی کا ہے

مرے شکست جو شکست کھا گئے
خموش ہوں کہ دن ہی خامشی کا ہے

ہر ابتدا کو انتہا کا ہے گماں
ہر انتہا کو غم کسی کمی کا ہے

محشر بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم