MOJ E SUKHAN

مرا خلوص ابھی سخت امتحان میں ہے

غزل

مرا خلوص ابھی سخت امتحان میں ہے
کہ میرے دوست کا دشمن مری امان میں ہے

وہ خوش نصیب پرندہ ہے جو اڑان میں ہے
کہ تیر نکلا نہیں ہے ابھی کمان میں ہے

تمہارا نام لیا تھا کبھی محبت سے
مٹھاس اس کی ابھی تک مری زبان میں ہے

تم آکے لوٹ گئے پھر بھی ہو یہیں موجود
تمہارے جسم کی خوشبو مرے مکان میں ہے

کہاں ملے گا حسینوں کو دور حاضر میں
وہ شاہزادہ جو پریوں کی داستان میں ہے

ہے جسم سخت مگر دل بہت ہی نازک ہے
کہ جیسے آئنہ محفوظ اک چٹان میں ہے

تجھے جو زخم دے تو اس کو پھول دے داناؔ
یہی اصول وفا تیرے خاندان میں ہے

عباس دانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم