MOJ E SUKHAN

مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے

غزل

مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے
مجھے نہ مانگ مرا ہاتھ مانگنے والے

یہ لوگ کیسے اچانک امیر بن بیٹھے
یہ سب تھے بھیک مرے ساتھ مانگنے والے

تمام گاؤں ترے بھولپن پہ ہنستا ہے
دھوئیں کے ابر سے برسات مانگنے والے

نہیں ہے سہل اسے کاٹ لینا آنکھوں میں
کچھ اور مانگ مری رات مانگنے والے

کبھی بسنت میں پیاسی جڑوں کی چیخ بھی سن
لٹے شجر سے ہرے پات مانگنے والے

تو اپنے دشت میں پیاسا مرے تو بہتر ہے
سمندروں سے عنایات مانگنے والے

ظفر گورکھ پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم