MOJ E SUKHAN

مرا نصیب یہ کہہ کر سمیٹ لایا تھا

مرا نصیب یہ کہہ کر سمیٹ لایا تھا
میں آسماں سے مقدر سمیٹ لایا تھا

کسی کے حکم کی تعمیل میں یہ پورا دن
اٹھا کے آنکھ میں منظر سمیٹ لایا تھا

محاذ عشق پہ تنہا ہی میں تو کافی تھا
مگر وہ شخص تو لشکر سمیٹ لایا تھا

یہ لوگ بھوک سے افلاس سے بلکتے ہیں
میں شہر جاں سے وہ سب گھر سمیٹ لایا تھا

کوئی گھٹا نہ سکے گا مرا قدوقامت
میں سائبان کا دفتر سمیٹ لایا تھا

مجھے تو عشق میں بس ڈوب کے ابھرنا تھا
تو اس جہاں کے سمندر سمیٹ لایا تھا

یہ کار عشق ہے مرے وجود کا حصّہ
سو اپنے دل میں یہ نشتر سمیٹ لایا تھا

جہاں پہ چھوڑ کے آیا تھا تیرا نقشِ وفا
وہیں سے اب دل مضطر سمیٹ لایا تھا

حسن رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم