MOJ E SUKHAN

مرا یار جب سے روانہ ہوا

غزل

مرا یار جب سے روانہ ہوا
کہیں بھی نہ اپنا ٹھکانا ہوا

گھڑی دو گھڑی کی جدائی مجھے
لگے یوں کہ جیسے زمانا ہوا

خبر ساری دنیا کی رکھتا تھا جو
وہ خود سے بھی دل سے بیگانا ہوا

نہ جانے وہ مجھ سے ہے ناراض کیوں
ہے کیا روٹھنے کا بہانا ہوا

کوئی شے بھی دنیا کی بھاتی نہیں
یہ دل ایسا اس کا دوانا ہوا

بڑا جرم ہے پیار کرنا یہاں
کہ دشمن یہ سارا زمانا ہوا

نیا زخم کھانے کو تیار ہیں
جو کھایا تھا پہلے پرانا ہوا

جو دیکھا اسے مسکراتے ہوئے
مرے دل کا موسم سہانا ہوا

جو دیکھا ذرا مسکرا کر مجھے
مرا حوصلہ پھر توانا ہوا

مرے پاس بیٹھو گھڑی دو گھڑی
کہ موسم بڑا عاشقانہ ہوا

عبد المجید ساغر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم