غزل
مرا یار جب سے روانہ ہوا
کہیں بھی نہ اپنا ٹھکانا ہوا
گھڑی دو گھڑی کی جدائی مجھے
لگے یوں کہ جیسے زمانا ہوا
خبر ساری دنیا کی رکھتا تھا جو
وہ خود سے بھی دل سے بیگانا ہوا
نہ جانے وہ مجھ سے ہے ناراض کیوں
ہے کیا روٹھنے کا بہانا ہوا
کوئی شے بھی دنیا کی بھاتی نہیں
یہ دل ایسا اس کا دوانا ہوا
بڑا جرم ہے پیار کرنا یہاں
کہ دشمن یہ سارا زمانا ہوا
نیا زخم کھانے کو تیار ہیں
جو کھایا تھا پہلے پرانا ہوا
جو دیکھا اسے مسکراتے ہوئے
مرے دل کا موسم سہانا ہوا
جو دیکھا ذرا مسکرا کر مجھے
مرا حوصلہ پھر توانا ہوا
مرے پاس بیٹھو گھڑی دو گھڑی
کہ موسم بڑا عاشقانہ ہوا
عبد المجید ساغر