MOJ E SUKHAN

مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو

مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو
غم بڑھے بھی تو سہی درد زیادہ بھی تو ہو

ایسی مشکل تو نہیں دشت وفا کی تسخیر
سر میں سودا بھی تو ہو دل میں ارادہ بھی تو ہو

ذہن کا مشورۂ‌ ترک طلب بھی برحق
ذہن کی بات قبول دل سادہ بھی تو ہو

کہیں بادل کہیں سورج کہیں سایہ کہیں دھوپ
مرے معبود ترا کوئی لبادہ بھی تو ہو

پیار میں کم تو نہیں کم نگہی بھی اس کی
ہاں تنک ظرفیٔ احساس کشادہ بھی تو ہو

عاشقی سرمد و منصور سے کچھ خاص نہیں
مست لیکن کوئی بے زحمت بادہ بھی تو ہو

ظرف‌ ایذا طلبی غم بھی پرکھ لیں گوہرؔ
اس سے اک روز نہ ملنے کا ارادہ بھی تو ہو

گوہر ہوشیارپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم