MOJ E SUKHAN

مری داستان حسرت وہ سنا سنا کر روئے

مری داستان حسرت وہ سنا سنا کر روئے
مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے

کوئی ایسا اہل دل ھو کہ فسانہ محبت
میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے

مری آرزو کی دنیا دل ناتواں کی حسرت
جسے کھو کے شادماں تھے اسے آج پا کے روئے

تری بے وفائیوں پر تری کج ادائیوں پر
کبھی سر جھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے

جو سنائی انجمن میں شب غم کی آپ بیتی
کئی رو کے مسکرائے کئی مسکرا کے روئے

مرے پاس سے وہ گزرے مرا حال تک نہ پوچھا
میں یہ کیسے مان جاؤں کہ وہ دور جاکے روئے

سیف الدین سیف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم