MOJ E SUKHAN

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں

غزل

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں
جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں

مرا کفر حاصل زہد ہے مرا زہد حاصل کفر ہے
مری بندگی وہ ہے بندگی جو رہین دیر و حرم نہیں

مجھے راس آئیں خدا کرے یہی اشتباہ کی ساعتیں
انہیں اعتبار وفا تو ہے مجھے اعتبار ستم نہیں

وہی کارواں وہی راستے وہی زندگی وہی مرحلے
مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں کبھی ہم نہیں

نہ وہ شان جبر شباب ہے نہ وہ رنگ قہر عتاب ہے
دل بے قرار پہ ان دنوں ہے ستم یہی کہ ستم نہیں

نہ فنا مری نہ بقا مری مجھے اے شکیلؔ نہ ڈھونڈھئے
میں کسی کا حسن خیال ہوں مرا کچھ وجود و عدم نہیں

شکیل بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم