MOJ E SUKHAN

مری ہتھیلی میں لکھا ہوا دکھائی دے

مری ہتھیلی میں لکھا ہوا دکھائی دے
وہ شخص مجھ کو برنگ حنا دکھائی دے

اسے جو دیکھوں تو اپنا سراغ پاؤں میں
اسی کے نام میں اپنا پتا دکھائی دے

روش پہ جلیں اس کی آہٹوں سے چراغ
عجب خرام ہے آواز پا دکھائی دے

جو مہرباں ہے تو کیا مہرباں خفا تو خفا
کبھی کبھی تو وہ بالکل خدا دکھائی دے

سماں سماں ہے دھندلکا دھواں دھواں منظر
جدھر بھی دیکھوں بس اک خواب سا دکھائی دے

جنوں نے بخش دیں نظروں کو وسعتیں کیا کیا
کہ ذرے ذرے میں صحرا بچھا دکھائی دے

نہ میری طرح کوئی دیکھ لے اسے بلقیسؔ
میں کیوں بتاؤں مجھے اس میں کیا دکھائی دے

بلقیس ظفیر الحسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم