MOJ E SUKHAN

مرے بدن میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے

غزل

مرے بدن میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے
اک اور ذات میں ڈھلتا ہوا سا کچھ تو ہے

مری صدا نہ سہی ہاں مرا لہو نہ سہی
یہ موج موج اچھلتا ہوا سا کچھ تو ہے

کہیں نہ آخری جھونکا ہو مٹتے رشتوں کا
یہ درمیاں سے نکلتا ہوا سا کچھ تو ہے

نہیں ہے آنکھ کے صحرا میں ایک بوند سراب
مگر یہ رنگ بدلتا ہوا سا کچھ تو ہے

جو میرے واسطے کل زہر بن کے نکلے گا
ترے لبوں پہ سنبھلتا ہوا سا کچھ تو ہے

یہ عکس پیکر صد لمس ہے نہیں نہ سہی
کسی خیال میں ڈھلتا ہوا سا کچھ تو ہے

بدن کو توڑ کے باہر نکلنا چاہتا ہے
یہ کچھ تو ہے یہ مچلتا ہوا سا کچھ تو ہے

کسی کے واسطے ہوگا پیام یا کوئی قہر
ہمارے سر سے یہ ٹلتا ہوا سا کچھ تو ہے

یہ میں نہیں نہ سہی اپنے سرد بستر پر
یہ کروٹیں سی بدلتا ہوا سا کچھ تو ہے

وہ کچھ تو تھا میں سہارا جسے سمجھتا تھا
یہ میرے ساتھ پھسلتا ہوا سا کچھ تو ہے

بکھر رہا ہے فضا میں یہ دود روشنی کا
ادھر پہاڑ کے جلتا ہوا سا کچھ تو ہے

مرے وجود سے جو کٹ رہا ہے گام بہ گام
یہ اپنی راہ بدلتا ہوا سا کچھ تو ہے

جو چاٹتا چلا جاتا ہے مجھ کو اے بانیؔ
یہ آستین میں پلتا ہوا سا کچھ تو ہے

راجیندر من چندا بانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم