MOJ E SUKHAN

مرے دل کی ہر اک رگ خونچکاں معلوم ہوتی ہے

مرے دل کی ہر اک رگ خونچکاں معلوم ہوتی ہے
تمناؤں کی دنیا گلستاں معلوم ہوتی ہے

قیامت آ نہ جائے رات کے او جاگنے والے
تری ہر سانس لبریز فغاں معلوم ہوتی ہے

بھڑک اے شمع کشتہ اور نگاہ جستجو بن جا
مری تربت کسی کو بے نشاں معلوم ہوتی ہے

فغاں ٹوٹے ہوئے دل کی جسے تم کھیل سمجھے ہو
مجھے وابستۂ نظم جہاں معلوم ہوتی ہے

جو سن لیتے تو کیا تھا مختصر سی شرح بربادی
مگر تم کو تو وہ اک داستاں معلوم ہوتی ہے

مری میت پہ وہ میری وفائیں یاد کرتے ہیں
خموشی بھی مری جادو بیاں معلوم ہوتی ہے

تبسم ریز ہیں کلیاں خیابان فصاحت کی
زمین شعر ماہرؔ گلفشاں معلوم ہوتی ہے

ماہر القادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم