MOJ E SUKHAN

مرے رستے سے ہٹائے مجھ کو

مرے رستے سے ہٹائے مجھ کو
کون اب مجھ سے بچائے مجھ کو

بیچ دے خود کو مرے ہاتھ کوئی
اور بدلے میں کمائے مجھ کو

بڑھ رہے ہیں مری جانب کچھ لوگ
کوئی چُپ رہنا سکھائے مجھ کو

کون ہے جو مری مرضی کے خلاف
اپنے قدموں میں بٹھائے مجھ کو

مجھ کو دھتکارے ، مگر وہ پہلے
بن کے مجھ ایسا دکھائے مجھ کو

نظر آتا نہیں مَیں کیوں اُس کو
وہ جو ہر سُو نظر آئے مجھ کو

صاحبِ فن ہے ، سبھی جانتے ہیں
جیسے چاہے وہ بنائے مجھ کو

مری تقدیر میں کس نے یہ لکھا
آگ اندر کی جلائے مجھ کو

کیسے انکار کروں ، سوچتا ہوں
پیش کرتا ہے وہ چائے مجھ کو

پھر سے تعمیر کی صورت نہ رہے
یُوں کبھی کوئی مٹائے مجھ کو

ہو رہے ہیں جو ہر اک سَر پہ محیط
کیوں کھٹکتے ہیں وہ سائے مجھ کو

مجھ کو ازبر ہیں تقاریر اُس کی
اب وہ کچھ کر کے دکھائے مجھ کو

آنکھوں آنکھوں میں سب اسباقِ وفا
اُس نے عادِل ہیں پڑھائے مجھ کو

عادِل یزدانی چنیوٹ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم