غزل
مرے وجود میں گریہ کی لا زوالی ہے
اداسیوں نے مری داغ بیل ڈالی ہے
مجھے وفاؤں سے گنجان کرنے والے پلٹ
پلٹ کہ خانۂ دل یاد سے بھی خالی ہے
وہ شخص کاش کہ اپنا جواب بھی رکھتا
بچھڑ کے جس سے مری زندگی سوالی ہے
بساط جاں پہ مرا کھیل انہماک سے دیکھ
بہت ہی جلد مری مات ہونے والی ہے
بہت سے اصل خدا آزما چکا ہوں میں
اسی سبب سے تو میرا خدا خیالی ہے
آکاش عرش