MOJ E SUKHAN

مرے وجود میں گریہ کی لا زوالی ہے

غزل

مرے وجود میں گریہ کی لا زوالی ہے
اداسیوں نے مری داغ بیل ڈالی ہے

مجھے وفاؤں سے گنجان کرنے والے پلٹ
پلٹ کہ خانۂ دل یاد سے بھی خالی ہے

وہ شخص کاش کہ اپنا جواب بھی رکھتا
بچھڑ کے جس سے مری زندگی سوالی ہے

بساط جاں پہ مرا کھیل انہماک سے دیکھ
بہت ہی جلد مری مات ہونے والی ہے

بہت سے اصل خدا آزما چکا ہوں میں
اسی سبب سے تو میرا خدا خیالی ہے

آکاش عرش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم