MOJ E SUKHAN

مرے وجود کو کاٹا کسی نگینے سے

مرے وجود کو کاٹا کسی نگینے سے
ہوا نے باندھ کے رکھا مجھے سفینے سے

مرے خلوص کی دنیا بکھیرتا کیسے
چلا رہا تھا نظام وفا قرینے سے

یہاں پہ کون سنوارے گا ماہ وسال مرے
نکل گیا ہوں کسی سال کے مہینے سے

میں خاک پا ہوں مجھے لوٹنا ہے دنیا سے
چلا ہوں کرب و بلا شام کو مدینے سے

مرے وجود کو تھکنے کبھی نہیں دیتی
ترے خیال کی خوشبو مرے پسینے سے

یہ آدمی تو خوشامد پسند ہے اتنا
یہاں پہ پوچھتا کوئی نہیں کمینے سے

لٹا کے عشق کی دولت رضا فقیروں میں
اٹھا لیا ہے میں نے ہاتھ اب خزینے سے

حسن رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم