MOJ E SUKHAN

مرے پس رو کو اندازہ نہیں تھا

غزل

مرے پس رو کو اندازہ نہیں تھا
میں رستہ تھا مگر سیدھا نہیں تھا

مجھے سورج پہ یہ بھی برتری تھی
میں روشن تھا مگر جلتا نہیں تھا

سفر کی آرزو کچھ دیدنی تھی
میں قطرہ تھا مگر رکتا نہیں تھا

جڑیں تھیں سایہ تھا پھل پھول بھی تھے
میں جتنا تھا فقط اتنا نہیں تھا

وہ لگتا تھا مگر ایسا نہیں تھا
سمندر ہی سہی گہرا نہیں تھا

بھڑک اٹھا جو تیرے آنسوؤں سے
وہ میرا زخم تھا شعلہ نہیں تھا

وہ انہونی تھی جو ہو کر رہی تھی
جو ہونا تھا وہی ہوتا نہیں تھا

کہاں کی گرمئ بازار دنیا
میں سکہ تھا مگر چلتا نہیں تھا

رحمان حفیظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم