MOJ E SUKHAN

مر رہے گا اب جو تو نے آہ کی

غزل

مر رہے گا اب جو تو نے آہ کی
ہے یہ خاطر میرے خاطر خواہ کی

گرچہ دل دریا سے موتی لا نہ پائے
کچھ خبر تو لائے اس کی تھاہ کی

بن گئے بازار کی توسیع ہم
اس نے کی تخلیق ہم نے چاہ کی

اس نے جھٹکا اپنے رخ سے زلف کو
میں نے اپنے شعر کی اصلاح کی

اس فرشتے نے اشارہ بھر کیا
اور مجھ شیطاں نے بسم اللہ کی

آکاش عرش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم