MOJ E SUKHAN

مر گیا ہے سچ جہاں میں اس صدی میں قید ہوں

مر گیا ہے سچ جہاں میں اس صدی میں قید ہوں
کیا کروں مجبور ہوں میں بے بسی میں قید ہوں

روشنی پنجرے میں سورج کی کبھی آتی نہیں
ہر گھڑی اے دوستوں میں تیرگی میں قید ہوں

دشمنوں سے تو ابھی آزاد ہو جاؤں مگر
کیا کروں کچھ دوستو کی دوستی میں قید ہوں

حال دل میں کیا بتاؤں کچھ نہیں آتا سمجھ
قید ہوں رنج و الم میں یا خوشی میں قید ہوں

غم نہیں یہ قید ہوں صیاد کے اس جال میں
غم تو یہ ہے میں تری موجودگی میں قید ہوں

چاہتی ہوں سب غریبوں کی مدد کرنا مگر
ہاے سد افسوس کہ میں مفلسی میں قید ہوں

موت ہی آزاد کر سکتی ہے اب "وشمہ” مجھے
پیار کی پنچھی ہوں لیکن زندگی میں قید ہوں

وشمہ خان وشمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم