MOJ E SUKHAN

مزاج شہر جو تحریر کرنے نکلے ہیں

غزل

مزاج شہر جو تحریر کرنے نکلے ہیں
ہم اپنے آپ کو دلگیر کرنے نکلے ہیں

نکل کے خواب سرا سے بجھا کے چشم گماں
خیال و خواب کو تعبیر کرنے نکلے ہیں

سجا کے آنکھ میں وحشت بدن پہ ویرانی
ترے جمال کی تشہیر کرنے نکلے ہیں

جو دن کی بھیڑ میں ہم سے بچھڑ گئی تھی کہیں
اس ایک شام کو تصویر کرنے نکلے ہیں

بہت ہی سادہ ہیں ہم بھی اٹھا کے یاد کوئی
گئے دنوں کو جو زنجیر کرنے نکلے ہیں

لباس عشق سجا کر بدن پہ ہم خاورؔ
طلسم حسن کو تسخیر کرنے نکلے ہیں

اقبال خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم