مزہ الفت میں کیا دونوں کو حاصل ہو نہیں سکتا
مگر مشکل ہے ایک اُن کا مرا دل ہو نہیں سکتا
جفا و رشک سہنے کے قابل ہو نہیں سکتا
مرا دل ہو بھی،ہوسکتا ہے ترا دل ہو نہیں سکتا
کسی کے رنج و غم میں کوئی شامل ہو نہیں سکتا
مرا ساتھی مرا حامی مرا دل ہو نہیں سکتا
عزیزِ خلق بننے کو وفا کی بھی ضرورت ہے
فقط پہلو میں ہونے سے کوئی دل ہو نہیں سکتا
الٰہی اُڑ گئی دنیا سے کیا تاثیر الفت کی
وہ کہتے ہیں ہمارا دل ترا دل ہو نہیں سکتا
وہ فرماتے ہیں لاؤ مجھ کو دے دو کس طرح دے دوں
مرے پہلو میں پیدا دوسرا دل ہو نہیں سکتا
وفا سے آدمی تسخیر کر لیتا ہے عالم کو
وہ دل میں رہتے رہتے کیا مرا دل ہو نہیں سکتا
ہم آہیں کیا کریں انجام آہوں کا سمجھتے ہیں
ہوا میں بھی شگفتی غنچہء دل ہو نہیں سکتا
موہ موسٰی ہی تھے غش کھا کر گرے جو طور سینا پر
ہمیں جلوے سے سکتہ بھی تو اے دل ہو نہیں سکتا
جگہ دوں کیا سمجھ کر میں ترے پیکاں کو پہلو میں
مرا دل بن نہیں سکتا مرا دل ہو نہیں سکتا
پرائی چیز مل جاۓ تو پھر بھی وہ پرائی ہے
کوئی لے کر مرا دل مالکِ دل ہو نہیں سکتا
نگاہوں سے نگاہیں لڑ کر اکثر چھپ بھی سکتی ہیں
مگر مل کر کبھی دل سے جدا دل ہو نہیں سکتا
وفا و عشق میں بھی کوئی شے ذاتی فضیلت ہے
تڑپنے کو جگر تڑپے مگر دل ہو نہیں سکتا
لگاوٹ اور پھر اس پر لگاوٹ خوب رویوں کی
انھیں تو دل بھی دے کر کوئی بے دل ہو نہیں سکتا
ہواۓ گل اڑا لے جاۓ لیکن کیا تماشا ہے
عنا دل کے تلفظ سے جدا دل ہو نہیں سکتا
وفا سے اس کو مطلب ہے جفا سے واسطہ اس کو
جنابِ نوحؔ کا دل آپ کا دل ہو نہیں سکتا