غزل
مسیحا اچھا ہو پھر بھی شفا نہیں ہوتی
مریضِ عشق کی کوئی دوا نہیں ہوتی
تِرے فراق کا حاصل ہے زندگی کا جبر
نمازِ عشق کوئی بھی قضا نہیں ہوتی
چمن گلاب سے معمور تھا کبھی مگر آج
یہاں کلی نہیں کِھلتی صبا نہیں ہوتی
ہے عشق اور بیاباں میں رابطہ مضبوط
کبھی بغیر سماعت صدا نہیں ہوتی
گزررہی ہے اُسی کی پناہ میں مِری زیست
میں جانتی ہوں کب اس کی رضا نہیں ہوتی
حسین گھاؤ ہے، گرچہ بہت ہی گہرا ہے
کہ زخم دینے پہ کوئی سزا نہیں ہوتی
وہ زندگی کے مرض میں ہوئی ہے قید ثمر
کہ روح عشق سے اس کی رہا نہیں ہوتی
ثمرین ندیم ثمر