MOJ E SUKHAN

مصائب زمانے کے کم کیجیے

غزل

مصائب زمانے کے کم کیجیے
زمانے کو رشک ارم کیجیے

نہ بے کار بیٹھو کبھی دوستو
کہ دو چار طے اب قدم کیجیے

جو کرتے ہو کعبے میں رب کو تلاش
زمانے کو مثل حرم کیجیے

کسی پر بھی ڈھاؤ نہ ظلم و ستم
ہر اک پہ نگاہ کرم کیجیے

جو دیکھو کسی کو بھی روتا ہوا
تو آنکھوں کو اپنی بھی نم کیجیے

بہت سخت دل کیوں تمہارے ہوئے
ذرا دل کی سختی کو کم کیجیے

کسی کے بھی آگے خدا کے سوا
کبھی اپنے سر کو نہ خم کیجیے

نہیں لگتا دنیا میں ساگرؔ جی دل
چلو چل کے سیر عدم کیجیے

عبد المید ساغر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم