MOJ E SUKHAN

معانی لفظوں کے پیری میں کچھ شباب میں کچھ

غزل

معانی لفظوں کے پیری میں کچھ شباب میں کچھ
اور اس کے بارے میں لکھا نہیں کتاب میں کچھ

پہنچ کے دیکھا تو مانگے کی روشنی کے سوا
فلک کے تاروں میں کچھ ہے نہ ماہتاب میں کچھ

ہر ایک گھونٹ میں یکساں نہیں تھی تلخیٔ مے
کہ گھول دیتے ہیں حالات بھی شراب میں کچھ

کئی گناہوں کا اندراج ہی نہیں ملتا
کسی سے بھول ہوئی ہے مرے حساب میں کچھ

ہے تیرا عکس کہ میرے غموں کا سایا ہے
نظر تو آتا ہے پیمانۂ شراب میں کچھ

اوم کرشن راحت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم