MOJ E SUKHAN

معلوم ہمیں خیریت اغیار سے کیوں ہو

غزل

معلوم ہمیں خیریت اغیار سے کیوں ہو
ایسے ہی مراسم ہیں تو پھر یار سے کیوں ہو

اب باندھو کمر چھو لو فلک کر کے دکھا دو
ہاتھوں پہ دھرے ہاتھ یہ بے کار سے کیوں ہو

ہے کیسی یہ گفتار ہے یہ کیسی محبت
اقرار بھی کرنا ہے تو انکار سے کیوں ہو

بدلے ہیں اگر دنیا نے کچھ طور طریقے
توتم بھی بدل جاؤ یوں دیوار سے کیوں ہو

اک خوف کی آغوش میں گزرے گی حیاتی
معلوم ہے جب تم کو تو لاچار سے کیوں ہو

آصف سہل مظفر

Asif Sehal Muzaffar

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم