MOJ E SUKHAN

معمورۂ افکار میں اک حشر بپا ہے

معمورۂ افکار میں اک حشر بپا ہے
ادراک بھی انساں کے لیے طرفہ بلا ہے

ہر نقش اگر تیرا ہی نقش کف پا ہے
پھر میرے لیے کوئی سزا ہے نہ جزا ہے

ہونٹوں پہ ہنسی سینوں میں کہرام بپا ہے
دیوانوں نے جینے کا چلن سیکھ لیا ہے

اب دشت جنوں بھی جو سمٹ آئے عجب کیا
دیوانہ کوئی لے کے ترا نام چلا ہے

اک بار جو ٹوٹے تو کبھی جڑ نہیں سکتا
آئینہ نہیں دل مگر آئینہ نما ہے

اپنوں سے کبھی موت جدا کر نہیں سکتی
جو ٹوٹ گیا ہاتھ وہ سینے پہ دھرا ہے

ہم ذوق سماعت سے ہیں محروم وگرنہ
ہر قطرۂ شبنم میں دھڑکنے کی صدا ہے

وہ سامنے آئے ہیں کچھ اس طرفہ ادا سے
آداب محبت کے بھی دل بھول گیا ہے

دھڑکا یہ لگا ہے کہ سحر آئے نہ آئے
اس غم سے سر شام ہی دل ڈوب رہا ہے

رضا ہمدانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم