MOJ E SUKHAN

معمولی بے کار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

معمولی بے کار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں
مجھ کو اک آزار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

پاگل پن میں آکر پاگل کچھ بھی تو کرسکتا ہے
خود کو عزت دار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

منزل کی خواہش ہے جن کو آئیں میرے ساتھ چلیں
رستوں کو ہموار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

ہر اک صف میں شامل بھی ہوں،ہر اک صف سے باہر بھی
مجھ کو جانب دار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

میں تو ہر منزل کی جانب جانے والا رستہ ہوں
میرے کو دیوار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

آنچل اور ملبوس پہ جن کی آنکھیں چپکی رہتی ہوں
اْن کو باکردار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

فیضِ عالم بابر خود بھی یار ہے جانے کس کس کا
یاروں کو مکار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

فیض عالم بابر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم