MOJ E SUKHAN

مغرور نہ اتنا ہو دلبر تو اور نہیں میں اور نہیں

مغرور نہ اتنا ہو دلبر تو اور نہیں میں اور نہیں
بے وجہ نہ مجھ سے پھیر نظر تو اور نہیں میں اور نہیں

یہ حسن جوانی یہ شوخی ہے چار دنوں کی رنگینی
تو ناز نہ کر ان باتوں پر تو اور نہیں میں اور نہیں

تو ایک حسیں ہے لاکھوں میں یہ مان لیا میں نے لیکن
میں بھی ہوں بشر تو بھی ہے بشر تو اور نہیں میں اور نہیں

تو چاہے نہ کر دل سے الفت تو چاہے نہ رکھ مجھ سے نسبت
میں تیری نظر میں غیر مگر تو اور نہیں میں اور نہیں

کیا کعبہ کیا مسجد مندر اس ہرجائی کے ہیں سب گھر
اک نور ہے سب میں جلوہ گر تو اور نہیں میں اور نہیں

عیبوں سے مرے کیوں کر ہے ضد کیا ان سے تجھے مطلب زاہد
تو دیکھ نہ میرے عیب و ہنر تو اور نہیں میں اور نہیں

اپنوں سے نفرت ٹھیک نہیں پرنمؔ کا کہنا مان بھی جا
اب آ کے گلے مل دیر نہ کر تو اور نہیں میں اور نہیں

پرنم الہ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم