MOJ E SUKHAN

مقتل کی بازدید

مقتل کی بازدید

بلا کی پیاس اس کی آنکھ میں ہے

حجاز کی سرزمیں پہ اس سال اس قدر بارشیں ہوئی ہیں کہ خشک تالاب
خون ناحق سے بھر گئے ہیں

لہو کی پیاس اس کی آنکھ میں ہے
نفس میں بارود جس کی قاتل صدا کا شعلہ

قدم قدم تہنیت کے رستے رواں ہوا تو وہ نخل جس کی جڑیں زمینوں کے
درد میں تھیں

جھکا کچھ ایسے کہ جیسے حال رکوع میں ہو
اداس طائر جو شاخ پر تھے

جو گنبدوں کی پناہ میں تھے
جو جالیوں کے طواف میں تھے

ڈرے ہوئے آسمان ہجرت کی ٹہنیوں سے
نشیب میں اس زمین مقتل کو دیکھتے ہیں

جہاں وہ نخل اس طرح گرا ہے کہ جیسے حال سجود میں ہو
اک اور تالاب تازہ بارش سے بھر گیا ہے

اختر حسین جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم