MOJ E SUKHAN

ملال دل میں کسی درد کا نہیں رکھنا

غزل

ملال دل میں کسی درد کا نہیں رکھنا
کوئی برا جو کہے دل برا نہیں رکھنا

یہ دشمنی تو بہت فاصلے بڑھا دے گی
ہمارے بعد کسی سے گلہ نہیں رکھنا

ہمارے دوست ہمیں بد گمان کر دیں گے
اب التفات بہت برملا نہیں رکھنا

یہ نسل نو تو ہمیں سے جواز مانگے گی
سو اختلاف کو حد سے سوا نہیں رکھنا

تمہارے پاس فقط آج ہے مرے لوگو
کسی بھی کام کو کل پہ اٹھا نہیں رکھنا

ہم عاجزی سے ملیں تربیت ہماری ہے
انہیں غرور سلام و دعا نہیں رکھنا

ملیں ضرور مگر فیصلے کے بعد غزلؔ
کہ ربط آپ سے رکھنا ہے یا نہیں رکھنا

ذکیہ غزل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم