ملا تو دہر میں وہ کام کر گیا اک شخص
کہ میرے بخت کو سر تاج کر گیا اک شخص
رقیب جس کسی سر تال میں کرے ہے رقص
مری تو ذات کی تکمیل کر گیا اک شخص
تماشہ دیکھنے والوں رہے گی تم کو حرص
کہ کون ہے کہاں سے آیا کب گیا اک شخص
وفا تو ہے مرے اجداد کی پرانی وصف
حیات عشق سے رنگین کر گیا اک شخص
ارم کی پھر وہی دستار ہے بلا تخصیص
جنوں جو عشق کا ہر بار دے گیا اک شخص
ارم ایوب