MOJ E SUKHAN

ملا ملا کے نظر مسکرائے جاتے ہیں

غزل

ملا ملا کے نظر مسکرائے جاتے ہیں
وہ چشم مست کا جادو جگائے جاتے ہیں

ہم اپنی مشق تصور کی دستگیری سے
نقاب رخ سے کسی کے اٹھائے جاتے ہیں

رقیب کیا ستم ناروا کہ سہہ نہ سکے
کسی کی بزم میں ہم کیوں بلائے جاتے ہیں

کسی کے ناز کی تصویر کھنچتی جاتی ہے
سر نیاز ہم اپنا جھکائے جاتے ہیں

وہ بھولے جاتے ہیں طرز جفائے بے جا کو
ہم اپنا زور وفا آزمائے جاتے ہیں

ہمارا قصہ ہمارا سمجھ کے کب سنتے
بدل کے نام ہم ان کو سنائے جاتے ہیں

وہ اپنے تذکرۂ حسن سے ہیں خوش بیدلؔ
انہیں غزل پہ غزل ہم سنائے جاتے ہیں

بیدل عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم