MOJ E SUKHAN

منزلوں کو نظر میں رکھا ہے

منزلوں کو نظر میں رکھا ہے
جب قدم رہ گزر میں رکھا ہے

اک ہیولیٰ ہے گھر خرابی کا!
ورنہ کیا خاک گھر میں رکھا ہے

ہم نے حسن ہزار شیوہ کو
جلوہ جلوہ نظر میں رکھا ہے

چاہیئے صرف ہمت پرواز
باغ تو بال و پر میں رکھا ہے

حرم و دیر سے الگ ہم نے
ابھی اک سجدہ سر میں رکھا ہے

میری ہمت نے اپنی منزل کا
فاصلہ رہ گزر میں رکھا ہے

رات دن دھوپ چھاؤں کا عالم
کیا تماشا نظر میں رکھا ہے

تابش دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم