MOJ E SUKHAN

منصب عشق کا خیال رہے

منصب عشق کا خیال رہے
زخم کا سلسلہ بحال رہے

یہ بھی فرصت نہ تھی کہ دم لیتا
یوں تعاقب میں ماہ و سال رہے

ہم سر آئنہ رہے جب تک
صورت اشک انفعال رہے

اپنے اعصاب مجتمع رکھنا
دشت غم ہے ذرا خیال رہے

تاب گفتار جب میسر ہے
زیر لب کیوں کوئی سوال رہے

میری آنکھیں رہیں رہیں نہ رہیں
تو رہے اور ترا جمال رہے

مثل بینائی میری آنکھوں میں
عمر بھر اس کے خد و خال رہے

رفیع الدین راز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم