من کی چنگاری سے دل کو ہم ہر شام جلاتے ہیں
پھر ہم دل کی راکھ پہ غم کی چادر لے سو جاتے ہیں
سینے سے جب یاد اُمڈ کر آنکھوں تک آ جاتی ہے
ذہن کو تھوڑا بھٹکا کر ہم ان کی یاد چھپاتے ہیں
دنیا کی اس وسعت میں اک مٹھی راکھ کی وقعت کیا
وقت کے کچھ جھونکے آتے ہیں ، راکھ اُڑا لے جاتے ہیں
ہاتھ کی یہ ریکھائیں ہیں یا زنجیریں ہیں پیروں کی
راہ دکھائی دیتی ہے پر پاؤں نہیں اٹھ پاتے ہیں
رازؔ سہم جاتے ہیں ہم تو ، جب کوئی تعریف کرے
کالے سے جو دل پر تِل ہیں نظر کسے وہ آتے ہیں
رازداں راز