MOJ E SUKHAN

من کی چنگاری سے دل کو ہم ہر شام جلاتے ہیں

من کی چنگاری سے دل کو ہم ہر شام جلاتے ہیں
پھر ہم دل کی راکھ پہ غم کی چادر لے سو جاتے ہیں

سینے سے جب یاد اُمڈ کر آنکھوں تک آ جاتی ہے
ذہن کو تھوڑا بھٹکا کر ہم ان کی یاد چھپاتے ہیں

دنیا کی اس وسعت میں اک مٹھی راکھ کی وقعت کیا
وقت کے کچھ جھونکے آتے ہیں ، راکھ اُڑا لے جاتے ہیں

ہاتھ کی یہ ریکھائیں ہیں یا زنجیریں ہیں پیروں کی
راہ دکھائی دیتی ہے پر پاؤں نہیں اٹھ پاتے ہیں

رازؔ سہم جاتے ہیں ہم تو ، جب کوئی تعریف کرے
کالے سے جو دل پر تِل ہیں نظر کسے وہ آتے ہیں

رازداں راز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم