غزل
مواقع عشق کے وہ اب کہاں ہیں
ادائیں یار کی درد زباں ہیں
نہیں بنتی ہے آپس میں کوئی بات
ہمارے درمیاں کچھ تلخیاں ہیں
ہمیں ملنے نہیں اب کوئی آتا
مقدر میں یہی تنہائیاں ہیں
ہیں یہ بھی ایک حصہ زندگی کا
ادھر دکھ ہیں ادھر شہنائیاں ہیں
پلٹ کر جا نہیں سکتے وطن میں
ہماری راہ میں بربادیاں ہیں
نہ جاؤ خود ہمیں پڑھ لو سبق لو
ہمی مغرب زدوں کی داستاں ہیں
نہ کھلواؤ مرا منہ انجمن میں
مرے دل میں کئی باتیں نہاں ہیں
وفا بڑھتی ہے جن رشتوں سے اے دوست
وہی رشتے ہمارے درمیاں ہیں
نظر آتا نہیں سچائی کا لفظ
یہ کیسے رہنماؤں کے بیاں ہیں
احسان سہگل