MOJ E SUKHAN

مواقع عشق کے وہ اب کہاں ہیں

غزل

مواقع عشق کے وہ اب کہاں ہیں
ادائیں یار کی درد زباں ہیں

نہیں بنتی ہے آپس میں کوئی بات
ہمارے درمیاں کچھ تلخیاں ہیں

ہمیں ملنے نہیں اب کوئی آتا
مقدر میں یہی تنہائیاں ہیں

ہیں یہ بھی ایک حصہ زندگی کا
ادھر دکھ ہیں ادھر شہنائیاں ہیں

پلٹ کر جا نہیں سکتے وطن میں
ہماری راہ میں بربادیاں ہیں

نہ جاؤ خود ہمیں پڑھ لو سبق لو
ہمی مغرب زدوں کی داستاں ہیں

نہ کھلواؤ مرا منہ انجمن میں
مرے دل میں کئی باتیں نہاں ہیں

وفا بڑھتی ہے جن رشتوں سے اے دوست
وہی رشتے ہمارے درمیاں ہیں

نظر آتا نہیں سچائی کا لفظ
یہ کیسے رہنماؤں کے بیاں ہیں

احسان سہگل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم