MOJ E SUKHAN

موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں

موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں
دریا ترے وجود کا حصہ تو میں بھی ہوں

اے قہقہے بکھیرنے والے تو خوش بھی ہے
ہنسنے کی بات چھوڑ کہ ہنستا تو میں بھی ہوں

مجھ میں اور اس میں صرف مقدر کا فرق ہے
ورنہ وہ شخص جتنا ہے اتنا تو میں بھی ہوں

اس کی تو سوچ دنیا میں جس کا کوئی نہیں
تو کس لیے اداس ہے تیرا تو میں بھی ہوں

اک ایک کر کے ڈوبتے تارے بجھا گئے
مجھ کو بھی ڈوبنا ہے ستارہ تو میں بھی ہوں

اک آئنے میں دیکھ کے آیا ہے یہ خیال
میں کیوں نہ اس سے کہہ دوں کہ تجھ سا تو میں بھی ہوں

تیمور حسن تیمور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم