MOJ E SUKHAN

موت نے مسکرا کے پوچھا ہے

غزل

موت نے مسکرا کے پوچھا ہے
زندگی کا مزاج کیسا ہے

اس کی آنکھوں میں میری غزلیں ہیں
میری غزلوں میں اس کا چہرا ہے

اس سے پوچھو عذاب رستوں کا
جس کا ساتھی سفر میں بچھڑا ہے

چاندنی صرف ہے فریب نظر
چاند کے گھر میں بھی اندھیرا ہے

عشق میں بھی مزہ ہے جینے کا
غم اٹھانے کا گر سلیقہ ہے

چھوڑ زخموں پہ تبصرہ کرنا
اب قلم سے لہو ٹپکتا ہے

روشنی کی زبان میں داناؔ
وہ چراغوں سے بات کرتا ہے

عباس دانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم