MOJ E SUKHAN

موج خیال میں نہ کسی جل پری میں آئے

غزل

موج خیال میں نہ کسی جل پری میں آئے
دریا کے سارے رنگ مری تشنگی میں آئے

پھر ایک روز آن ملا ابر ہم مزاج
مٹی نمو پذیر ہوئی تازگی میں آئے

دامن بچا رہے تھے کہ چہرہ بھی جل گیا
کس آگ سے گزر کے تری روشنی میں آئے

یہ میں ہوں میرے خواب یہ شمشیر بے نیام
اب تیرا اختیار ہے جو تیرے جی میں آئے

اک بار اس جہان سے مل لینا چاہئے
ایسا نہ ہو کہ پھر یہ فقط خواب ہی میں آئے

آنکھوں میں وہ لپک ہے نہ سینے میں وہ الاؤ
اس بار اس سے کہنا ذرا سادگی میں آئے

تنہا اداس دیکھ رہا تھا میں چاند کو
یہ پھول بہتے بہتے کہاں سے ندی میں آئے

تھک ہار کر گرا تھا کہ آنکھوں میں پھر گئے
توقیرؔ وہ مقام جو آوارگی میں آئے

توقیر تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم