MOJ E SUKHAN

مَانا کہ مُشتِ خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں مَیں

مَانا کہ مُشتِ خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں مَیں
لیکن ہوا کے رحم و کرم پر نہیں ہوں مَیں

انسان ہوں، دھڑکتے ہوئے دل پہ ہاتھ رَکھ
یُوں ڈُوب کر نہ دیکھ سَمندر نہیں ہوں مَیں

چہرے پہ مل رہا ہوں سیاہی نصیب کی
آئینہ ہاتھ میں ہے سِکندر نہیں ہوں مَیں

غالؔب تِری زمین میں لکھّی تو ہے غزل
تیرے قدِ سخن کے برابر نہیں ہوں مَیں

شاعر: مظفر وارثی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم