مہرباں تم پہ بادل ہوگیا تو
کروگے کیا وہ جل تھل ہو گیا تو
کہا اس نے چلو موضوع ہی بدلیں
فسانہ جب مکمل ہو گیا تو
رلائے نہ کہیں سارے جہاں کو
تمہارا غم مسلسل ہوگیا تو
کبھی انجام بھی سوچا ہے تم نے
یہ دل وحشت میں جنگل ہوگیا تو
کبھی ہر گز نہ اس سے دور ہوں گے
جدا ہوکر وہ پاگل ہوگیا تو
قمر کے عکس سے ساحل ہے روشن
یہ سایہ جھیل میں حل ہوگیا تو
سُرور اس کو چھپاکر دل میں رکھنا
کبھی نظروں سےاوجھل ہوگیا تو
ڈاکٹرقمرسرور