میاں گل میں دیکھیں نہ کچھ گلستاں میں
ستاروں کو دیکھیں فقط کہکشاں میں
بشر بن کے جب سے زمینوں پہ اترے
مرا چاند چمکا ہے تب آسماں میں
بہت خوبصورت مجھے لگ رہے ہیں
جو ٹھہرے ہیں شب کو مرے سائباں میں
کسوٹی پہ ہم کو پرکھنے لگے ہیں
کہاں پاس ہونگے عجب امتحاں میں
کبھی نور بن کے کبھی حور بن کے
نکلتے ہیں راتوں کو اس گلستاں میں
جو ہم شعر کہتے ہیں گرداب اٹھتے
کہاں دم ہے اتنا بھی آتش فشاں میں
قدم چومتے ہیں فرشتے بھی آکر
جو آرام فرما ہیں اس آستاں میں
فقط ایک کردار رکھتے نہیں ہم
بہت سے ہیں کردار اس داستاں میں
مرے دل کو تابش منور کیا ہے
نہیں کوئی ثانی ترا اس جہاں میں
تابش رامپوری