MOJ E SUKHAN

میاں گل میں دیکھیں نہ کچھ گلستاں میں

میاں گل میں دیکھیں نہ کچھ گلستاں میں
ستاروں کو دیکھیں فقط کہکشاں میں

بشر بن کے جب سے زمینوں پہ اترے
مرا چاند چمکا ہے تب آسماں میں

بہت خوبصورت مجھے لگ رہے ہیں
جو ٹھہرے ہیں شب کو مرے سائباں میں

کسوٹی پہ ہم کو پرکھنے لگے ہیں
کہاں پاس ہونگے عجب امتحاں میں

کبھی نور بن کے کبھی حور بن کے
نکلتے ہیں راتوں کو اس گلستاں میں

جو ہم شعر کہتے ہیں گرداب اٹھتے
کہاں دم ہے اتنا بھی آتش فشاں میں

قدم چومتے ہیں فرشتے بھی آکر
جو آرام فرما ہیں اس آستاں میں

فقط ایک کردار رکھتے نہیں ہم
بہت سے ہیں کردار اس داستاں میں

مرے دل کو تابش منور کیا ہے
نہیں کوئی ثانی ترا اس جہاں میں

تابش رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم