غزل
میری الفت کو بھی جفا سمجھے
میں نے کیا سمجھا آپ کیا سمجھے
اس نظر کو نظر کہوں کیسے
پتھروں کو جو آئنہ سمجھے
تھی فضاؤں میں وہ گھٹن کہ لوگ
باد صرصر کو بھی صبا سمجھے
بھول بیٹھا ہو جب خدا کو بھی
آدمی آدمی کو کیا سمجھے
بد گماں ہو گئے وہ جب مجھ سے
میری ہر بات کو گلہ سمجھے
چین لینے دیا نہ اک پل کو
اے غم دل تجھے خدا سمجھے
کوئی تو ہو جہاں میں اے ہاتفؔ
میرے دل کا جو ماجرا سمجھے
ہاتف عارفی فتح پوری