MOJ E SUKHAN

میرے قدموں سے اک رہ گزر باندھ کر

غزل

میرے قدموں سے اک رہ گزر باندھ کر
چھین لی اس نے منزل سفر باندھ کر

کیا زمیں دیکھنا کیا فلک دیکھنا
اس نے چھوڑا مجھے میرے پر باندھ کر

عمر رفتہ کی یادیں سنبھالے ہوئے
گھر سے نکلی ہوں نظروں میں گھر باندھ کر

میری نظروں میں جچتا نہ تھا یہ جہاں
اس نے جادو کیا تھا نظر باندھ کر

اک روایت نئی ڈالنی ہے مجھے
مصرعۂ تر میں بھی چشم تر باندھ کر

میرے رب نے مجھے معتبر کر دیا
میرے نوک قلم سے ہنر باندھ کر

حجاب عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم