MOJ E SUKHAN

میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو

غزل

میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو
ساز چھیڑا نہ کرو گیت سنایا نہ کرو

جاؤ آباد کرو اپنی تمناؤں کو
مجھ کو محفل کا تماشائی بنایا نہ کرو

میری راہوں میں جو کانٹے ہیں تو کیوں پھول ملیں
میرے دامن کو الجھنے دو چھڑایا نہ کرو

تم نے اچھا ہی کیا ساتھ ہمارا نہ دیا
بجھ چکے ہیں جو دیے ان کو جلایا نہ کرو

میرے جیسا کوئی پاگل نہ کہیں مل جائے
تم کسی موڑ پہ تنہا کبھی جایا نہ کرو

یہ تو دنیا ہے سبھی قسم کے ہیں لوگ یہاں
ہر کسی کے لیے تم آنکھ بچھایا نہ کرو

زہر غم پی کے بھی کچھ لوگ جیا کرتے ہیں
ان کو چھیڑا نہ کرو ان کو ستایا نہ کرو

شوکت پردیسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم