MOJ E SUKHAN

میرے مکاں سے کاش یہ منظر دکھائی دے

غزل

میرے مکاں سے کاش یہ منظر دکھائی دے
ہریالیوں کے بیچ ترا گھر دکھائی دے

چہرہ کسی کا چاہے لگے ماہتاب سا
جاؤ نہ اتنے پاس کہ پتھر دکھائی دے

اس شخص کو صداؤں سے پہچان جائیے
جس شخص کا نہ جسم نہ پیکر دکھائی دے

آتا ہے اور کون ہوا کے سوا یہاں
اس دشت میں کہاں سے کوئی گھر دکھائی دے

تو میری ذات میں کبھی جھانکے تو کیا عجب
تیرے سوا نہ کچھ مرے اندر دکھائی دے

زخموں کو ناپ لیتا ہے کس طرح دیکھیے
یہ دل جو بحر غم کا شناور دکھائی دے

چل کر اب ایسے شہر میں کچھ دن گزاریے
خاورؔ جہاں نہ کوئی سخنور دکھائی دے

بدیع الزماں خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم