MOJ E SUKHAN

میرے ہاتھوں میں کچھ گلاب تو ہیں

میرے ہاتھوں میں کچھ گلاب تو ہیں
جو نہ ممکن رہے وہ خواب تو ہیں

رنگ بکھرے ہیں چار سو میرے
ریگ زاروں میں کچھ سراب تو ہیں

تیری چاہت کی آرزو نہ سہی
مہ ترے سایہ عتاب تو ہیں

لفظ ڈھلنے لگے ہیں معنی میں
زندگی سے ملے جواب تو ہیں

روشنی سی رہی درختوں پر
جنگلوں پر رہے شباب تو ہیں

اس زمانے کی کیا حقیقت ہے
ساحلِ وقت پر حباب تو ہیں

شائستہ مفتی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم