میرے ہونٹوں پہ مہر چپ کی لگادی جائے
مجھ کو حق گوئی کی ایسی نہ سزا دی جائے
روشنی کم ہی سہی ،گھور اندھیرے سے مگر
کیا یہ بہتر نہیں اک شمع جلادی جائے
کرکے مسمار غریبوں کے جھونپڑے جو بنیں
ایسے محلات کو تو آ گ لگادی جائے
ڈس رہے ہیں کیوں محبت کو ناگ نفرت کے
ایسے شعلوں کو نہ اب اور ہوا دی جائے
اوڑھے پھرتے ہیں لبادہ جو پارسائی کا
اصلیت ان کی زمانے کو دکھا دی جائے
فرش کا خود کو سمجھتے ہیں جو خدا روبی
ان کی اوقات ذرا ان کو بتادی جائے
روبینہ ممتاز روبی