MOJ E SUKHAN

میں آب عشق میں حل ہو گئی ہوں

میں آب عشق میں حل ہو گئی ہوں
ادھوری تھی مکمل ہو گئی ہوں

پلٹ کر پھر نہیں آتا کبھی جو
میں وہ گزرا ہوا کل ہو گئی ہوں

بہت تاخیر سے پایا ہے خود کو
میں اپنے صبر کا پھل ہو گئی ہوں

ملی ہے عشق کی سوغات جب سے
اداسی تیرا آنچل ہو گئی ہوں

سلجھنے سے الجھتی جا رہی ہوں
میں اپنی زلف کا بل ہو گئی ہوں

برستی ہے جو بے موسم ہی اکثر
اسی بارش میں جل تھل ہو گئی ہوں

مری خواہش ہے سورج چھو کے دیکھوں
مجھے لگتا ہے پاگل ہو گئی ہوں

​حمیرا راحت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم